رباعی شمارهٔ 55

Toggle stanza 1
عرفی منم آن که دوزخم تب‌شکن است
1

عرفی منم آن که دوزخم تب‌شکن است

روزم ز هجوم تیرگی شب‌شکن است

2

امیدم اگر حاملهٔ حرمان‌زاست

بپذیرم اگر سپاه مطلب‌شکن است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…