رباعی شمارهٔ 55
Toggle stanza 1عرفی منم آن که دوزخم تبشکن است
11
عرفی منم آن که دوزخم تبشکن است
روزم ز هجوم تیرگی شبشکن است
22
امیدم اگر حاملهٔ حرمانزاست
بپذیرم اگر سپاه مطلبشکن است
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

