غزل شمارهٔ 543

Toggle stanza 1
ساغر لب ریز وصل، بر کف مشتاق نه
1

ساغر لب ریز وصل، بر کف مشتاق نه

زمزمهٔ آتشین بر لب عشاق نه

2

ای قلم شعله ریز، دود دل ما بریز

آتش حسرت فزوز در دل اوراق نه

3

حسن صنم پرده سوخت، ای دل دیدار دوست

ناصیه بر خاک بند، حوصله بر تاق نه

4

عرفی اگر در جگر، شعله ندانی شکست

صد فلک از دود دل، بر سر آفاق نه

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…