غزل شمارهٔ 408
Toggle stanza 1از سخن شهد ناب می چکدش
11
از سخن شهد ناب می چکدش
وز تبسم شراب می چکدش
22
می توان گفت از آن طراوت حسن
کز جبین آفتاب می چکدش
33
که زد این نیش بر دل گرمم
کآتش از پیچ و تاب می چکدش
44
هر حدیثی که پرسم از همت
آبرو از جواب می چکدش
55
آتش عشق نشئه ای دارد
که شراب از کباب می چکدش
66
چه کند عرفی ار نریزد اشک
از جگر خون ناب می چکدش
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

