غزل شمارهٔ 408

Toggle stanza 1
از سخن شهد ناب می چکدش
1

از سخن شهد ناب می چکدش

وز تبسم شراب می چکدش

2

می توان گفت از آن طراوت حسن

کز جبین آفتاب می چکدش

3

که زد این نیش بر دل گرمم

کآتش از پیچ و تاب می چکدش

4

هر حدیثی که پرسم از همت

آبرو از جواب می چکدش

5

آتش عشق نشئه ای دارد

که شراب از کباب می چکدش

6

چه کند عرفی ار نریزد اشک

از جگر خون ناب می چکدش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…