Toggle stanza 1
عهد حسنش روزگار دستبرد آتش است
1

عهد حسنش روزگار دستبرد آتش است

صاف آتش حسن او خورشیدبرد آتش است

2

خان و نان عالمی از آتش حسنش بسوخت

در شمار خانه سوز روزبرد آتش است

3

بستگان عشق را بی دل برد آب حیات

این متاع آماده بهر دست برد آتش است

4

عرفی اندر عشق اگر ناقص بود افسرده نیست

صید عشق ار خام باشد نیم خورد آتش است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…