شمارهٔ 66
Toggle stanza 1شوخی که نگاه بر عذارش بندند
11
شوخی که نگاه بر عذارش بندند
شمعی است که بر شعله تارش بندند
22
تا چند شکفته ماند آن دسته گل
کز شاخ بچینند و به خارش بندند
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

