شمارهٔ 74
Toggle stanza 1رزقم همه از طبع گهر سنج آید
11
رزقم همه از طبع گهر سنج آید
گنجیم به هر قدم به پا رنج آید
22
زان دم که درین مزرع دهقان گشتم
دایم سر بیلم به سر گنج آید
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

