Toggle stanza 1
رزقم همه از طبع گهر سنج آید
1

رزقم همه از طبع گهر سنج آید

گنجیم به هر قدم به پا رنج آید

2

زان دم که درین مزرع دهقان گشتم

دایم سر بیلم به سر گنج آید

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…