Toggle stanza 1
از منزلِ کفر تا به دین، یک نفس است
1

از منزلِ کفر تا به دین، یک نفس است

وز عالم شک تا به یقین، یک نفس است

2

این یک نفسِ عزیز را خوش می‌دار

کَز حاصلِ عمرِ ما همین یک نفس است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…