Toggle stanza 1
* با یار چو آرمیده باشی همه عمر
1

* با یار چو آرمیده باشی همه عمر

لذّاتِ جهان چشیده باشی همه عمر

2

هم آخِرِ کار رحلتت خواهد بود

خوابی باشد که دیده‌ باشی همه عمر

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…