رباعی 20
Toggle stanza 1* با یار چو آرمیده باشی همه عمر
11
* با یار چو آرمیده باشی همه عمر
لذّاتِ جهان چشیده باشی همه عمر
22
هم آخِرِ کار رحلتت خواهد بود
خوابی باشد که دیده باشی همه عمر
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

