غزل شمارهٔ 527
شاعر: جامی
Toggle stanza 1حدیثی مشکل و سری ست مغلق
11
حدیثی مشکل و سری ست مغلق
که در کون و مکان کس نیست جز حق
22
حقیقت واحد است و وحدت او
بود مرد محقق را محقق
33
ولیکن ز اختلاف اعتبارات
گهی باشد مقید گاه مطلق
44
مجرد یابیش ز اطلاق و تقیید
اگر جلباب هستی را کنی شق
55
چو بندی از تصاریف شیون چشم
تو را مصدر نماید عین مشتق
66
کند هر دم بیان این نکته را عشق
ولی عقلش نمی دارد مصدق
77
نبخشد جان جامی را خلاصی
ز قید عقل جز جام مروق
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

