شمارهٔ 55
Toggle stanza 1بی مایه و سود خواهی آمد آخر
11
بی مایه و سود خواهی آمد آخر
بی گفت و شنود خواهی آمد آخر
22
بسیار مرو به اوج هستی بالا
زیرا که فرود خواهی آمد آخر
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

