Toggle stanza 1
این چنین خوب و نازنین که تویی
1

این چنین خوب و نازنین که تویی

نبود هیچ کس چنین که تویی

2

گر گلستان جنتم بخشند

نروم زان گل زمین که تویی

3

صحبت جان و تن نیارد تاب

مونس هر دل حزین که تویی

4

هیچ مرغ دل از تو جان نبرد

باز ازین گونه در کمین که تویی

5

جامی آخر به داغ دل سوزی

با چنین آه آتشین که تویی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…