غزل شمارهٔ 509

Toggle stanza 1
ای کرده بر هلاک من از اهل عشق نص
1

ای کرده بر هلاک من از اهل عشق نص

جان در تنم ز شوق تو کالطیر فی القفص

2

بس دلکش است قصه خوبان و زان میان

تو یوسفی و قصه تو احسن القصص

3

گر صاحب فصوص بدیدی لب تو را

در حکمت مسیح نوشتی هزار فص

4

بی نسبت است بحث مساوات با سگت

کس نیست بر در تو ازو مطلقا اخص

5

گفتی چو عزم رخصت پابوس کردمت

یا صاحب العزیمة ایاک والرخص

6

کم جام غصه ای که ز لعلت نمی خورم

قد مت کم تجر عنی هذه الفصص

7

تیغ تو بهر قتل کسان نص قاطع است

جامی چگونه سر کشد از مقتضای نص

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…