شمارهٔ 33
Toggle stanza 1جامی روزی فلک به دادت برسد
11
جامی روزی فلک به دادت برسد
وز بند زمانه صد گشادت برسد
22
پای از سر خویش و کرسی از زانو کن
تا دست به دامن مرادت برسد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

