شمارهٔ 21
Toggle stanza 1از آتش سودای تو دم زد دل من
11
از آتش سودای تو دم زد دل من
بر طارم افلاک علم زد دل من
22
دامان امید را ز مقصد پر یافت
در پیروی تو تا قدم زد دل من
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

