شمارهٔ 17
Toggle stanza 1چون جمع شود ز عقل و دین قافلهها
11
چون جمع شود ز عقل و دین قافلهها
عشق تو کند« عالیها سافلها»
22
عشق تو که فرض ماست چون روی نمود
سهل است اگر فوت شود نافلهها
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

