Toggle stanza 1
ای ذات رفیع تو نه جوهر نه عرض
1

ای ذات رفیع تو نه جوهر نه عرض

فضل و کرمت نیست معلل به غرض

2

هر کس که نباشد تو عوض باشی ازو

وان را که نباشی تو کسی نیست عوض

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…