شمارهٔ 64
Toggle stanza 1ای ذات رفیع تو نه جوهر نه عرض
11
ای ذات رفیع تو نه جوهر نه عرض
فضل و کرمت نیست معلل به غرض
22
هر کس که نباشد تو عوض باشی ازو
وان را که نباشی تو کسی نیست عوض
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

