رباعی شمارهٔ 37
شاعر: حافظ
Toggle stanza 1گفتی که تو را شوم مدار اندیشه
11
گفتی که تو را شوم مدار اندیشه
دل خوش کن و بر صبر گمار اندیشه
22
کو صبر و چه دل، کآنچه دلش میخوانند
یک قطرهٔ خون است و هزار اندیشه
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

