Toggle stanza 1
گفتی که تو را شوم مدار اندیشه
1
گفتی که تو را شوم مدار اندیشه
دل خوش کن و بر صبر گمار اندیشه
2
کو صبر و چه دل، کآنچه دلش می‌خوانند
یک قطرهٔ خون است و هزار اندیشه

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…