Toggle stanza 1
به روز کاف و الف، از جمادی الاولی
1

به روز کاف و الف، از جمادی الاولی

به سال ذال و دگر نون و حا، علی‌الاطلاق

2

خدایگان سلاطین مشرق و مغرب

خدیو کشور عفو و کرم به استحقاق

3

سپهر حلم و حیا، آفتاب جاه و جلال

جمال دنیی و دین، شاه شیخ ابواسحق

4

میان عرصه میدان خود، به تیغ عدو

نهاد بر دل احباب خویش، داغ فراق

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…