رباعی شمارهٔ 52
Toggle stanza 1زانجا که دلم به وهم در بند نبود
11
زانجا که دلم به وهم در بند نبود
با هیچ علاقه سخت پیوند نبود
22
مقصود من از کعبه و آهنگ سفر
جز ترک دیار و زن و فرزند نبود
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

