Toggle stanza 1
تا چند به هنگامه سلامت باشی
1

تا چند به هنگامه سلامت باشی

تا چند ستمکش اقامت باشی

2

گفتی که نباشد شب غم را سحری

حیفست که منکر قیامت باشی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…