رباعی شمارهٔ 104
Toggle stanza 1تا چند به هنگامه سلامت باشی
11
تا چند به هنگامه سلامت باشی
تا چند ستمکش اقامت باشی
22
گفتی که نباشد شب غم را سحری
حیفست که منکر قیامت باشی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

