Toggle stanza 1
ای جام شراب شادکامی زده ای
1

ای جام شراب شادکامی زده ای

در جور دم از بلندنامی زده ای

2

یاد آر ز من چو بینی اندر راهی

تنها رو خسته خرامی زده ای

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…