رباعی شمارهٔ 59
Toggle stanza 1بازی خور روزگار بودم همه عمر
11
بازی خور روزگار بودم همه عمر
از بخت امیدوار بودم همه عمر
22
بی مایه به فکر سود ماندم همه جا
بی وعده در انتظار بودم همه عمر
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

