رباعی شمارهٔ 63
Toggle stanza 1خوابی که بود نشان بخت فیروز
11
خوابی که بود نشان بخت فیروز
دیده ست به روز شاه گیتی افروز
22
فیض دم صبح تا چه بالیدن داشت
کز صبح به شه رسید در نیمه روز
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

