رباعی شمارهٔ 84
شاعر: عراقی
Toggle stanza 1دل ز آرزوی تو بیقرار است هنوز
11
دل ز آرزوی تو بیقرار است هنوز
جان در طلبت بر سر کار است هنوز
22
دیده به جمالت ارچه روشن شد، لیک
هم بر سر آن گریهٔ زار است هنوز
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

