رباعی شمارهٔ 84

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اراستهنوز

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
دل ز آرزوی تو بی‌قرار است هنوز
1

دل ز آرزوی تو بی‌قرار است هنوز

جان در طلبت بر سر کار است هنوز

2

دیده به جمالت ارچه روشن شد، لیک

هم بر سر آن گریهٔ زار است هنوز

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…