رباعی شمارهٔ 114

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ویتوشدیم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
در عشق تو زارتر ز موی تو شدیم
1

در عشق تو زارتر ز موی تو شدیم

خاک قدم سگان کوی تو شدیم

2

روی دل هر کسی به روی دگری است

ماییم که بت‌پرست روی تو شدیم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…