رباعی شمارهٔ 114
Toggle stanza 1در عشق تو زارتر ز موی تو شدیم
11
در عشق تو زارتر ز موی تو شدیم
خاک قدم سگان کوی تو شدیم
22
روی دل هر کسی به روی دگری است
ماییم که بتپرست روی تو شدیم
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

