Toggle stanza 1
بود داغ من مردم دیدهٔ شب
1

بود داغ من مردم دیدهٔ شب

ز دود دلم موی ژولیدهٔ شب

2

ز هر حلقهٔ طرهٔ اوست روشن

به روی سحرحیرت دیدهٔ شب

3

دل از طره رم‌کرد و شد صید رویش

به صبح آشتی‌کرد رنجیدهٔ شب

4

سیه‌بختی او ز مه غازه دارد

بنازم به بخت نکوهیدهٔ شب

5

فروغ سحرکابروی جهان است

بودگردی از دامن چیدهٔ شب

6

ز بیدل مپرسید مضمون زلفش

چه خواند کسی خط پیچیدهٔ شب

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…