Toggle stanza 1
نه تنها از قدح مستی و از گل رنگ می‌جوشد
1

نه تنها از قدح مستی و از گل رنگ می‌جوشد

نوای محفل قدرت به صد آهنگ می‌جوشد

2

بجا واماندنت زیر قدم صد دشت گم دارد

اگر در گردش آیی خانه با فرسنگ می‌جوشد

3

جهان را بی‌تأمّل کرده‌ای نظاره زین غافل

که این حیرت‌فزا از سینه‌های تنگ می جوشد

4

در این‌ صحرا که یکسر بال‌ طاووس است اجزایش

غباری گر به خود بالد همان نیرنگ میجوشد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…