بخش 12 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
مرتضی را گفت مردی نامور
1

مرتضی را گفت مردی نامور

تو چه میدانی بعالم بیشتر

2

گفت طاعت بیشتر بر آسمانست

زانکه آنجا منزل روحانیانست

3

لیک بر روی زمین از خشک و تر

هیچم از غفلت نیاید بیشتر

4

ور ز زیر خاک میپرسیم نیز

نیست بیش از حسرت آنجا هیچ چیز

5

آنکه را از خاک و خون بندی بود

در نگر تاحسرتش چندی بود

6

کار عالم زادنست و مردنست

گه پدید آوردن و گه بردنست

7

لاجرم این کار بی پایان فتاد

تا ابد این درد بیدرمان فتاد

8

این چنین کاری که بیش از حدماست

از زحیر ما نخواهد گشت راست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…