بخش 2 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
مصطفی چون آمد از معراج در
1

مصطفی چون آمد از معراج در

وام میخواست از جهودی جومگر

2

از برای قوت جو میخواستش

وان جهود سگ گرو میخواستش

3

هر دو عالم دید آن شب ارزنی

روز دیگر جو نبودش یک منی

4

لاجرم چون این و آن یکسانش بود

هر دو عالم زیر یک فرمانش بود

5

ضعف ایمان باشدت ای ناتوان

تو چه دانی سر فقر شب روان

6

جان آدم نیز سر فقر سوخت

هشت جنت را بیک گندم فروخت

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…