بخش 2 - الحكایة و التمثیل
Toggle stanza 1مصطفی چون آمد از معراج در
11
مصطفی چون آمد از معراج در
وام میخواست از جهودی جومگر
22
از برای قوت جو میخواستش
وان جهود سگ گرو میخواستش
33
هر دو عالم دید آن شب ارزنی
روز دیگر جو نبودش یک منی
44
لاجرم چون این و آن یکسانش بود
هر دو عالم زیر یک فرمانش بود
55
ضعف ایمان باشدت ای ناتوان
تو چه دانی سر فقر شب روان
66
جان آدم نیز سر فقر سوخت
هشت جنت را بیک گندم فروخت
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

