بخش 13 - الحكایة ‌و التمثیل

Toggle stanza 1
نازنین شوریدهٔ درگاه بود
1

نازنین شوریدهٔ درگاه بود

پیشش آمد زاهدی در راه زود

2

گفت میگوید خداوندت سلام

نازنین گفتش که تو برگیر گام

3

از فضولی دست کن کوتاه تو

زانکه هیچ از حق نهٔ آگاه تو

4

کار حق بر تو کجا مبنی بود

کز وکیلی چون تو مستغنی بود

5

تو برون شو از میان کان ذات فرد

بی رسولی تو داند گفت و کرد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…