بخش 9 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
کرد عمرو قیس را مردی سؤال
1

کرد عمرو قیس را مردی سؤال

گفت اگر فردا خدای ذوالجلال

2

سر بدوزخ در دهد ناگه ترا

در چه شغلی ره بود آنگه ترا

3

گفت برگیرم عصا و رکوهٔ

میزنم در گرد دوزخ خطوهٔ

4

زار میگویم که این زندان اوست

وین سزای آنکه اورا داشت دوست

5

دید آن شب حق تعالی را بخواب

کرد عمرو قیس را حالی خطاب

6

گفت هان ای بدگمان خلق آفرین

کی کند با دوستان خود چنین

7

دوستان آید بفردوسم دریغ

کی ز دوزخشان نهم بر حلق تیغ

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…