بخش 5 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
در مصافی پادشاه حق شناس
1

در مصافی پادشاه حق شناس

یافت از خیل اسیران بی قیاس

2

با وزیر خویشتن گفت ای وزیر

چیست رای تو درین مشتی اسیر

3

گفت چون دادت خدای دادگر

آنچه بودت دوستر یعنی ظفر

4

آنچه آن حق دوستر دارد مدام

تو بکن آن نیز یعنی عفو عام

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…