Toggle stanza 1
گر هر دو جهان فی المثل انگشتری است
1

گر هر دو جهان فی المثل انگشتری است

وان کرده در انگشت یکی لشکری است

2

گر رحم نیایدت بر آنکس همه روز

میدان تو که آن علامت کافری است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…