شمارهٔ 12
Toggle stanza 1گر هر دو جهان فی المثل انگشتری است
11
گر هر دو جهان فی المثل انگشتری است
وان کرده در انگشت یکی لشکری است
22
گر رحم نیایدت بر آنکس همه روز
میدان تو که آن علامت کافری است
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

