Toggle stanza 1
جان را چو ز رفتن تو آگاهی شد
1

جان را چو ز رفتن تو آگاهی شد

دل در سر نالهٔ سحرگاهی شد

2

کو آن همه دولت تو ای گنج زمین

کی دانستی که اینچنین خواهی شد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…