شمارهٔ 28
Toggle stanza 1جان را چو ز رفتن تو آگاهی شد
11
جان را چو ز رفتن تو آگاهی شد
دل در سر نالهٔ سحرگاهی شد
22
کو آن همه دولت تو ای گنج زمین
کی دانستی که اینچنین خواهی شد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

