شمارهٔ 25
Toggle stanza 1بی روی تو در ماه سیاهی آمد
11
بی روی تو در ماه سیاهی آمد
مرگت به جوانی و پگاهی آمد
22
خفتی نه چنان نیز که برخواهی خاست
رفتی نه چنان که باز خواهی آمد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

