شمارهٔ 10
Toggle stanza 1چون هیچ کسی ندیدهام در خوردش
11
چون هیچ کسی ندیدهام در خوردش
پیوسته نشستهام دلی پر دردش
22
ناگاه چو برق بگذرد بر درِ من
چندان بناستد که ببینم گردش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

