شمارهٔ 34
Toggle stanza 1چون ایندل غم کشم وطن در خون دید
11
چون ایندل غم کشم وطن در خون دید
هر روز ز نو مرا غمی افزون دید
22
زین خانهٔ تنگ، سیر شد، صحرا خواست
بر اشک سوار گشت چون گلگون دید
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

