شمارهٔ 22
Toggle stanza 1گل بیرخ گلرنگ تو خاریست مرا
11
گل بیرخ گلرنگ تو خاریست مرا
چشم از غم تو چو چشمه ساریست مرا
22
بیروی تو ای روی به خاک آورده
آشفته دلی و روزگاریست مرا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

