Toggle stanza 1
ماییم بدین پردهٔ بیرونی در
1

ماییم بدین پردهٔ بیرونی در

هر لحظه به صد گام دگرگونی در

2

اکنون به جهان به جامهٔ خونی در

رفتیم به قعر بحر بیچونی در

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…