شمارهٔ 54
Toggle stanza 1ماییم بدین پردهٔ بیرونی در
11
ماییم بدین پردهٔ بیرونی در
هر لحظه به صد گام دگرگونی در
22
اکنون به جهان به جامهٔ خونی در
رفتیم به قعر بحر بیچونی در
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

