شمارهٔ 56
Toggle stanza 1گر عیاری خشک و ترت سوختنی است
11
گر عیاری خشک و ترت سوختنی است
ور طیاری بال و پرت سوختنی است
22
سر در ره عشق باز زیرا که چو شمع
تا خواهد بود یک سرت سوختنی است
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

