شمارهٔ 63
Toggle stanza 1جانا! می ده که با دلی غمناکم
11
جانا! می ده که با دلی غمناکم
تا می زغم جهان بشوید پاکم
22
هین باده! که سبزه آمد از خاک پدید
زان پیش که ناپدید گردد خاکم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

