شمارهٔ 65
Toggle stanza 1شمع آمد و گفت: هر که مردی بودست
11
شمع آمد و گفت: هر که مردی بودست
سوزش چو من از غایتِ دردی بودست
22
گر گریم تلخ هم روا میدارم
کز شیرینیم پیش خوردی بودست
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

