شمارهٔ 38
Toggle stanza 1ای از تن منقلب گذر ناکرده
11
ای از تن منقلب گذر ناکرده
جان را به سفر اهل بصر ناکرده
22
گوهر نشوی تا سفرِ جان نکنی
گوهر نشود قطره سفر ناکرده
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

