شمارهٔ 14
Toggle stanza 1اندیشهٔ ابروی تو پیوسته مراست
11
اندیشهٔ ابروی تو پیوسته مراست
وز حلقهٔ زلفت دل بشکسته مراست
22
چون خط تو رسته است و دهانت بسته
عشقی است که بر رسته و بر بسته مراست
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

