Toggle stanza 1
اندیشهٔ ابروی تو پیوسته مراست
1

اندیشهٔ ابروی تو پیوسته مراست

وز حلقهٔ زلفت دل بشکسته مراست

2

چون خط تو رسته است و دهانت بسته

عشقی است که بر رسته و بر بسته مراست

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…