Toggle stanza 1
زان گشت دلم خراب از هر ذرّه
1

زان گشت دلم خراب از هر ذرّه

تا برخیزد نقاب از هر ذرّه

2

چون پرده براوفتاد دل در نگریست

میتافت صد آفتاب از هر ذرّه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…