شمارهٔ 66
Toggle stanza 1زان گشت دلم خراب از هر ذرّه
11
زان گشت دلم خراب از هر ذرّه
تا برخیزد نقاب از هر ذرّه
22
چون پرده براوفتاد دل در نگریست
میتافت صد آفتاب از هر ذرّه
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

