شمارهٔ 37
Toggle stanza 1ای بیخبران! دلی به جان دربندید
11
ای بیخبران! دلی به جان دربندید
وز نیک و بد خلق، زبان دربندید
22
چون کار فتاد، بر کناری مروید
این کار شگرف را میان دربندید
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

