شمارهٔ 24
Toggle stanza 1در عشق، گمان خود عیان باید کرد
11
در عشق، گمان خود عیان باید کرد
ترک بد و نیک این جهان باید کرد
22
گر گوید: «ترکِ دو جهان باید داد.»
بیآنکه چرا کنی، چنان باید کرد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

