Toggle stanza 1
ای دل به سخن مگرد در خون پس ازین
1

ای دل به سخن مگرد در خون پس ازین

از نطق مرو ز خویش بیرون پس ازین

2

عمریست که تا زبانی از سر تا پای

وقتست که گوش گردی اکنون پس ازین

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…