شمارهٔ 10
Toggle stanza 1ای دل به سخن مگرد در خون پس ازین
11
ای دل به سخن مگرد در خون پس ازین
از نطق مرو ز خویش بیرون پس ازین
22
عمریست که تا زبانی از سر تا پای
وقتست که گوش گردی اکنون پس ازین
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

