شمارهٔ 94
Toggle stanza 1مردان می معرفت به اقبال کشند
11
مردان می معرفت به اقبال کشند
نه همچو زنان دُردی اشکال کشند
22
هرچ آن به دلیل روشنت باید کرد
آبیست که از چاه به غربال کشند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

