Toggle stanza 1
مردان می معرفت به اقبال کشند
1

مردان می معرفت به اقبال کشند

نه همچو زنان دُردی اشکال کشند

2

هرچ آن به دلیل روشنت باید کرد

آبیست که از چاه به غربال کشند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…