شمارهٔ 21
Toggle stanza 1تا کی باشم عاجز و مضطر مانده
11
تا کی باشم عاجز و مضطر مانده
بادی در دست و خاک بر سر مانده
22
هر روزم اگر هزاردر بگشایند
من زانهمه همچو حلقه بر در مانده
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

