Toggle stanza 1
تا کی باشم عاجز و مضطر مانده
1

تا کی باشم عاجز و مضطر مانده

بادی در دست و خاک بر سر مانده

2

هر روزم اگر هزاردر بگشایند

من زانهمه همچو حلقه بر در مانده

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…